//

اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا، ٹرمپ

واشنگٹن (آئی این پی): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے، تاہم جب تک تہران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، امریکا اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کے صدر جوزف عون اپنے چار روزہ دورۂ امریکا کے آخری روز وائٹ ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ ان کے بقول لبنان کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ لبنان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اس وقت حزب اللہ ہے، تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔ ملاقات میں لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں اور لبنان، اسرائیل تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر سابق امریکی صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے، لیکن جب تک وہ سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، امریکا اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔

جنوبی لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل وہاں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ایران اردن میں ایک حملے کے دوران امریکی دفاعی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا۔ ان کے مطابق اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات کیے گئے ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close