پشاور (آئی این پی): خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رات بھر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث متعدد شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوگیا جبکہ ندی نالوں میں طغیانی سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔
پشاور میں رات بھر ہونے والی بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جو 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کئی علاقوں میں بحال نہ ہوسکی۔ گلبہار، کاکشال، ریگی، ملازئی، یونیورسٹی ٹاؤن، ذریاب کالونی، کوہاٹ روڈ، دوران پور اور دیگر علاقوں میں بجلی کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئیں جبکہ نکاسی آب کے نالے بھی ابل پڑے۔ محکمہ موسمیات نے 23 جولائی تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
تحصیل رستم اور گردونواح میں بھی موسلادھار بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی، متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔ بارش شروع ہوتے ہی کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔
رسالپور اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔
دیر لوئر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ بالائی علاقوں کی متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ بجلی کے تمام فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بھی بری طرح متاثر رہی۔
دوسری جانب نوشہرہ میں بارشی سیلاب کے دوران جہانگیرہ اسٹاپ کے قریب فضل بارگین کے مقام پر 14 گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 نوشہرہ کی ڈیزاسٹر ٹیمیں ریکوری وہیکل اور ضروری آلات کے ساتھ موقع پر پہنچ گئیں اور تمام گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
ریسکیو 1122 نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین کے مطابق شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر تمام ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






