عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد سرمایہ کاروں کی نظریں آئندہ رجحان پر مرکوز ہو گئی ہیں، جبکہ ماہرین نے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی معاشی حالات میں استحکام برقرار رہا اور سرمایہ کاروں کی توجہ دیگر شعبوں کی جانب منتقل ہوتی رہی تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 5 ہزار 500 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونا 5 لاکھ روپے کی حد عبور کر گیا تھا۔ تاہم اب عالمی منڈی میں سونے کی قیمت کم ہو کر تقریباً 4 ہزار ڈالر فی اونس اور مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ 4 لاکھ 19 ہزار روپے کے قریب آ گئی ہے۔
اسی طرح چاندی، جو چند روز قبل تقریباً 12 ہزار روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، اب اس کی قیمت کم ہو کر تقریباً 6 ہزار روپے فی تولہ رہ گئی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل نے بتایا کہ دو سے تین سال قبل عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 2 ہزار ڈالر فی اونس تھی، جو 2026 کے آغاز میں بڑھ کر ساڑھے پانچ ہزار ڈالر تک جا پہنچی، تاہم بعد ازاں اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے تیل کی متوقع بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سونے اور چاندی سے سرمایہ نکال کر توانائی اور فرٹیلائزر کے شعبوں میں منتقل کیا، جس کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔
محمد سہیل کے مطابق کووڈ-19 کے بعد ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے رجحان میں تیزی آئی، جہاں بڑی تعداد میں نئے سرمایہ کار سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے لگے۔ ان کے بقول اسی رجحان نے مختلف اثاثوں کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی اور پھر اچانک گراوٹ کا سلسلہ شروع کیا، جس کی مثال صرف سونا اور چاندی ہی نہیں بلکہ بٹ کوائن سمیت دیگر سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا میں شرح سود 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان برقرار رہتی ہے تو سونے میں سرمایہ کاری کی کشش مزید کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی میں کمی آنے کی صورت میں سرمایہ کار فکسڈ انکم اسکیموں یا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے شعبے کا رخ کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






