ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ، اہم قدم اٹھا لیا گیا

وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے قیام کی حتمی منظوری دی۔

وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کو رپورٹ جمع کرانےکیلئے 60 دن کی مہلت دے دی،نیب کو جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے،نیب کے گریڈ 21 کے افسر جے آئی ٹی کمیٹی کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں۔

جے آئی ٹی میں ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے نمائندے بھی شامل ہونگے،ایف بی آر،آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

جے آئی ٹی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے قانونی اور انتظامی امور کا جائزہ لے گی،وفاق کے تمام ڈویژنز اور محکمے جے آئی ٹی کو معاونت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی۔

عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے 8 مارچ 2023 کو جاری کردہ لیز منسوخی آرڈر کو قانونی اور درست قرار دیا۔یہ تحریری فیصلہ چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر نے جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کمپنی سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ مالیاتی شرائط پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔

عدالت نے بی این پی لمیٹڈ کی جانب سے دائر ایگزیکیوشن پٹیشن کو بھی خارج کر دیا جبکہ تیسرے فریق یعنی انویسٹرز کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے انہیں متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے لیز کی منسوخی سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے عین مطابق کی گئی۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ نے 2019 میں لیز بحال کرتے ہوئے کمپنی کو 8 سال کے اندر 17.5 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم کمپنی 2022 کی قسط 2.916 ارب روپے جمع کرانے میں ناکام رہی۔

عدالت کے مطابق پٹیشنر نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، مگر اگلے سال ڈیفالٹ کر گیا، جس کے بعد متعدد یاددہانیوں کے باوجود واجبات ادا نہ کیے گئے۔ نتیجتاً سی ڈی اے نے 8 مارچ 2023 کو لیز منسوخ کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ پٹیشنر کو دی گئی “لائف لائن” سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، جبکہ 30 روزہ نوٹس میں تکنیکی خامی کے اعتراض کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

عدالت نے کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا 50 کروڑ روپے کا چیک ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر لیز منسوخی بالکل درست اقدام تھا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close