پیرس: یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سرد خانوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے اور متعدد مردہ خانوں میں میتیں رکھنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرد خانے چلانے والے افراد کو سوگوار خاندانوں کی جانب سے مسلسل فون کالز موصول ہو رہی ہیں، تاہم جگہ نہ ہونے کے باعث انہیں انکار کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک سرد خانے کے مالک زوہائر ہرٹیلی نے بتایا کہ ان کے سرد خانے میں 32 میتوں کی گنجائش مکمل ہو چکی ہے اور وہ روزانہ سینکڑوں کالز موصول ہونے کے باوجود مزید میتیں رکھنے سے قاصر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں گرمی کی لہر کا زور اگرچہ اب دیگر علاقوں کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے، تاہم فرانس میں جون کے دوران گرمی سے ہونے والی اموات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فرانسیسی محکمہ صحت کے مطابق ابتدائی اندازوں کے تحت گزشتہ پانچ روز میں معمول سے تقریباً ایک ہزار زائد اموات ہوئیں، جن میں زیادہ تر بزرگ افراد شامل تھے جو اپنے گھروں میں انتقال کر گئے۔
پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق گزشتہ بدھ فرانس کی تاریخ کا گرم ترین دن ثابت ہوا، جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہی، جس سے لوگوں کو ریلیف نہ مل سکا اور اموات میں مزید اضافہ ہوا۔
ادارے کے مطابق گرمی کی شدت بڑھنے کے بعد یومیہ اموات کی تعداد تقریباً 1200 تک پہنچ گئی، جبکہ جمعرات کو یہ تعداد بڑھ کر 1400 ہو گئی۔ اس سے قبل اپریل اور مئی میں روزانہ اموات کی اوسط 900 سے ایک ہزار کے درمیان تھی۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ گھروں اور اولڈ ایج ہومز میں ہونے والی متعدد اموات کا ریکارڈ ابھی مکمل طور پر جمع نہیں ہوا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






