واشنگٹن : سوئٹزرلینڈ میں رواں ہفتے شیڈول امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث معطل کر دیے گئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک نے تکنیکی ٹیموں کے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں مسلسل جھڑپوں کے باعث مذاکرات مؤخر کر دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے باوجود خطے میں کشیدگی کم نہ ہو سکی اور ایران و امریکا کے درمیان ایک بار پھر فوجی کارروائیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر امریکی فوج نے ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی افواج نے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایران نے امریکی کارروائیوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا، اور اگر صورتحال یہی رہی تو ایران کو انتہائی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






