کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے طلبہ کے ڈرگ ٹیسٹ کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقے اس اقدام کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں، تاہم نئی نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ٹیسٹنگ کے عمل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001 میں ترمیم کی گئی ہے، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے 2005 کے قواعد کے پیرا 20 میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 14 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان منشیات کا سب سے زیادہ شکار بن رہے ہیں، اس لیے تعلیمی اداروں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وہ قانون سے بچ جائے گی، لیکن حکومت واضح کرنا چاہتی ہے کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
ضیا الحسن لنجار نے دعویٰ کیا کہ کراچی ایئرپورٹ کے ذریعے کوکین اسمگل نہیں ہو رہی، جبکہ ان کے بقول لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر منشیات کی آمد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






