پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جس میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی سے متعلق قانونی شقوں کو غیر اسلامی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ درخواست مفتی محمد اسلم کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 203 ڈی کے تحت دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی کے لیے 18 سال کی لازمی عمر مقرر کرنا اور کم عمر شادی کو جرم قرار دینا قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
درخواست گزار نے وفاقی شرعی عدالت سے استدعا کی ہے کہ آرڈیننس کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور ان شقوں کو کالعدم قرار دیا جائے جو کم عمر شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیتی ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 پر عملدرآمد روکا جائے۔
مزید برآں درخواست گزار نے عدالت سے آرڈیننس میں مناسب ترامیم کے لیے احکامات جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے درخواست پر سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






