:ایپل کے نئے آئی فونز کے انتظار میں موجود صارفین کے لیے قیمتوں سے متعلق نئی اطلاعات سامنے آ گئی ہیں۔ اگرچہ کمپنی نے ابھی حتمی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا، تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق متوقع اضافہ پہلے کی پیش گوئیوں کے مقابلے میں نسبتاً محدود ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹم کک نے جون 2026 میں اشارہ دیا تھا کہ میموری اور اسٹوریج پرزہ جات کی بڑھتی لاگت کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ کون سی مصنوعات اور کس حد تک متاثر ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعمیر اور عالمی سطح پر میموری چپس کی مانگ نے سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔تازہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ایپل متوقع طور پر آئی فون 18 سیریز میں قیمتوں میں نسبتاً محدود اضافہ رکھ سکتا ہے۔جے پی مورگن چیس کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ بعض ماڈلز کی قیمت میں تقریباً 50 سے 100 ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ لاگت کم رکھنے کے لیے کمپنی اپنے اندرونی موڈیم اور دیگر حکمت عملی بھی استعمال کر سکتی ہے۔
اسی اندازے کے تحت آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت 1099 ڈالر کے بجائے تقریباً 1149 ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1249 ڈالر تک جا سکتی ہے، اگرچہ حتمی قیمت کا اعلان ابھی باقی ہے۔
اس سے قبل بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قیمتوں میں 200 ڈالر یا اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن حالیہ تجزیے نسبتاً کم اضافے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایپل رواں سال اپنی لانچ حکمتِ عملی میں تبدیلی لا سکتا ہے، جہاں پرو ماڈلز اور ممکنہ فولڈ ایبل آئی فون کو پہلے متعارف کرایا جائے جبکہ دیگر ماڈلز بعد میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





