دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو زوردار دھچکا لگ گیا

چند روز قبل ہی میں دُنیا کے پہلے ٹریلینئر بننے والے ایلون مسک اس درجے سے محروم ہو گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلائی کمپنی ’سپیس ایکس‘ اور ’ٹیسلا‘ کے حصص کی قیمت میں مسلسل کمی کے باعث حال ہی میں دُنیا کے پہلے ٹریلینئر بننے والے ایلون مسک صرف دو ہفتے بعد ہی اس درجے سے محروم ہو گئے۔

 

 

12 جون کو ’سپیس ایکس‘ کی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی لسٹنگ کے بعد اس کے حصص کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں اور ایک موقع پر یہ 225 ڈالر فی شیئر تک پہنچ گئی تھیں جس نے ایلون مسک کی مجموعی دولت کو 1.32 ٹریلین ڈالرز تک پہنچا دیا تھا۔

 

 

 

 

لیکن چند روز سے مارکیٹ میں کریکشن کے باعث منگل کو اُن کی مجموعی دولت 957 ارب ڈالرز رہ گئی۔

22 جون کو ایک ہی دن میں سپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں 16 فیصد کمی سے ایلون مسک کی مجموعی دولت میں 240 ارب ڈالرز کی کمی آ گئی لیکن وہ اب بھی دُنیا کے سب سے امیر شخص ہیں۔

سپیس ایکس میں ایلون مسک کی 42 فیصد ملکیت انھیں کمپنی کے معاملات پر تقریباً مکمل اختیار دیتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات کے مطابق خرچ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق سپیس ایکس میں شیئرز کی مالیت تجارت بند ہونے پر 767.1 ارب ڈالر تھی اور ان کے پاس سپیس ایکس کے 53.8 ارب ڈالر کے اضافی آپشنز بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیسلا میں ان کے حصص کی مالیت 168 ارب ڈالر اور مزید 116.4 ارب ڈالر کے آپشنز ہیں۔

مسک کے دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا درجہ فوری طور پر دولت میں عدم مساوات پر بحث کا باعث بن گیا تھا۔ ان کی دولت اب پولینڈ یا سوئٹزرلینڈ کی مجموعی اقتصادی پیداوار کے برابر ہے۔

ایسی بے مثال دولت نے پہلے ہی مسک کو عالمی سیاست میں طاقتور اور متنازع شخصیت بنا دیا۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ انتخابی مہم کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر دیے اور گذشتہ سال کئی ماہ تک مسک نے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈوج) کی سربراہی کی۔

 

حکومتی اخراجات میں سخت کٹوتیوں کے ذریعے، مسک امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی بندش کے ذمہ دار تھے۔

 

لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع محققین کی ایک وارننگ کے مطابق ایسی کٹوتیاں 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ اضافی اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔

انھوں نے برطانیہ اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کو بھی تارکینِ وطن اور نسلی تقسیم کو فروغ دینے جیسے موضوعات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن ان سیاست دانوں میں شامل تھے جنھوں نے کھرب پتی ہونے کے اس سنگ میل کی مذمت کی۔ وارن نے کہا کہ یہ ایک ’خبردار کر دینے والا لمحہ‘ ہونا چاہیے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیروں پر ویلتھ ٹیکس لگانے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

اگرچہ ایلون مسک کو ٹریلینئر کہا جا رہا ہے لیکن یہ دولت زیادہ تر ’کاغذی‘ ہے کیونکہ یہ ان کے حصص، خاص طور پر ٹیسلا اور سپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو پر مبنی ہے۔

وہ اپنے سپیس ایکس کے شیئرز کم از کم ایک سال تک فروخت نہیں کر سکتے، اس لیے یہ دولت فوری طور پر نقد (کیش) میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔

سپیس ایکس کی اس پبلک لسٹنگ کے نتیجے میں کمپنی کے موجودہ اور سابقہ 4,400 سے زائد ملازمین بھی امیر بننے کی توقع ہے کیونکہ انھیں تنخواہ کے حصے کے طور پر کمپنی کے شیئرز دیے گئے تھے۔

سپیس ایکس کی قدر کا زیادہ تر انحصار اس کی ممکنہ مستقبل کی آمدنی کے بارے میں امیدوں پر ہے، بجائے ان مالی نتائج کے جو وہ اب تک دکھا چکی ہے۔

یہ اس وقت منافع بخش نہیں یعنی یہ اپنے آپریشنز سے جتنا کماتی ہے اس سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہے۔

اپنی مالی دستاویزات کے مطابق، یہ کمپنی 2025 اور اب تک 2026 میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکی ہے، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت اور دیگر انفراسٹرکچر میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ہے۔

اس کا بنیادی کاروبار راکٹ بنانا اور دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کے ذریعے لانچ کرنا ہے۔

اسپیس ایکس سٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس بھی تیار اور لانچ کرتی ہے اور اس سال ایکس اے آئی کے حصول کے ذریعے جو مسک کی ملکیت اور زیرِ انتظام ایک اور کمپنی تھی، سپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے کاروبار میں بھی قدم رکھا ہے۔

اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم کو راکٹوں، اپنے بڑھتے ہوئے سٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے لیے سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنی ’ترقی کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے‘ کے لیے استعمال کرے گی، جس میں مدار میں ڈیٹا سینٹرز بنانے جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close