انقلابی رہنما انتقال کر گئے

کیوبا کے معروف انقلابی رہنما اور فیڈل کاسترو کے قریبی ساتھی رامیرُو والڈیز 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کے انتقال کی تصدیق کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر کی ہے، تاہم موت کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی۔

 

رامیرو والڈیز کو کیوبا کے انقلاب کے ابتدائی اور اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ فیڈل کاسترو کے ساتھ 1953 کی مونکاڈا بیرک حملے میں شریک رہے، جسے بعد ازاں انقلاب کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے۔ بعد میں وہ کاسترو کے ساتھ جلاوطنی میں میکسیکو گئے اور 1956 میں مشہور جہاز گرانما کے ذریعے واپس کیوبا پہنچ کر مسلح جدوجہد دوبارہ شروع کی۔

 

انقلاب کی کامیابی کے بعد 1959 میں فیڈل کاسترو کی حکومت کے قیام میں والڈیز نے اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں کئی دہائیوں تک کیوبا کی حکومت میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، انہوں نے وزیر داخلہ، نائب وزیر دفاع، اور نائب صدر سمیت متعدد اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

انہیں کیوبا میں “ہیرو آف دی ریپبلک” اور “کمانڈر آف دی ریولوشن” جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ وہ طویل عرصے تک حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹیکل بیورو کا حصہ رہے۔

 

صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اپنے بیان میں کہا کہ والڈیز کی وفات کا صدمہ ایک والد کے بچھڑنے جیسا ہے۔ انہوں نے ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: “کمانڈر! ہمیشہ فتح تک۔”

 

انقلابی دور کے نمایاں رہنما رہنے کے باوجود والڈیز آخری برسوں تک حکومت میں فعال رہے اور توانائی کے بحران جیسے معاملات میں بھی مشاورت کرتے رہے۔ وہ کیوبا میں بجلی کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کی مہمات سے بھی وابستہ رہے۔

 

ماہرین کے مطابق رامیرُو والڈیز کا انتقال کیوبا کی انقلابی تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کے مترادف ہے، کیونکہ وہ فیڈل کاسترو اور چی گویرا جیسے رہنماؤں کے آخری قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close