پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود کوئٹہ میں عوام کو فوری ریلیف میسر نہ آ سکا، اور متعدد پیٹرول پمپس بند ہونے کی اطلاعات سامنے آ گئی ہیں۔
شہریوں کو سستے ایندھن کا فائدہ پہنچنے سے قبل ہی سپلائی اور انتظامی مسائل نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کوئٹہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد بھی کئی پیٹرول پمپس بند ہو گئے، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی سطح پر شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف کا عملی فائدہ تاحال نظر نہیں آ رہا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت پیٹرول فی لیٹر 74 روپے، ڈیزل 67 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 48 روپے 29 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی۔
کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 233 روپے 90 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی، جو اس سے قبل 282 روپے 19 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
اوگرا کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






