نیویارک: ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد پاکستان میں بھی آئی فونز اور دیگر ایپل ڈیوائسز مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایپل کے سبکدوش ہونے والے سی ای او ٹم کک نے عالمی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پارٹس کی بڑھتی ہوئی لاگت اور میموری کرائسز کے باعث کمپنی کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے اور وہ اپنے 40 سالہ کیریئر میں ایسے معاشی حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ ان کے مطابق کمپنی صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی لاگت کو مکمل طور پر جذب کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کے اس فیصلے کا براہ راست اثر پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑے گا، جہاں آئی فونز، میک بکس اور آئی پیڈز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق چونکہ ایپل کی پاکستان میں کوئی باضابطہ مقامی موجودگی نہیں، اس لیے یہاں ریجنل پرائسنگ کا فائدہ نہیں ملتا اور قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ہی رہتی ہیں۔
اس کے برعکس سام سنگ پاکستان میں آفیشل طور پر موجود ہے اور مقامی سطح پر اسمبلنگ بھی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ نسبتاً بہتر قیمتوں پر مصنوعات پیش کر دیتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایپل آئندہ آئی فون 18 سیریز سمیت میک بکس اور آئی پیڈز کی نئی لائن اپ متعارف کرانے جا رہا ہے، جن کی قیمتیں پچھلی جنریشن کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایپل ہی نہیں بلکہ سام سنگ، مائیکروسافٹ، نینٹینڈو اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں بھی پرزہ جات کی قلت اور ریم (RAM) کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






