وزیراعظم شہباز شریف نے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر بطور ثالث دستخط کردیئے

وزیراعظم شہباز شریف نےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کردیئے، وہ آج کل ہونے والی تقریب میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر بطور ثالث باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔

اس تاریخی دستاویز پر امریکی صدر اور ایرانی صدر کے دستخط بھی موجود ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

دوسری جانب سوئس حکومت کا کہنا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات انیس جون کو ہوں گے، مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔

ایران اور امریکی حکام ثالث پاکستان اور قطر کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد پر بات چیت کیلئے کل برگن اسٹاک میں ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل امریکا اور ایران نے تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے ، امریکی حکام نے ایم او یو کا متن میڈیا نمائندوں کےسامنے پڑھ کر سنایا۔

امریکی حکام کی جانب سے میڈیا کے سامنے پڑھے گئے متن میں کہا گیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت کا پہلا اور سب سے اہم نکتہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی ہے، فریقین نے آئندہ جنگ یا ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز، لبنان کی خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

معاہدے کے تحت دستخط کے فوری بعد امریکا، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا جبکہ حتمی معاہدے کے بعد امریکی افواج کو بھی ایران کے اطراف سے ہٹا لیا جائے گا۔

ایران بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے بعد 30 دن کے اندر بحری ٹریفک مکمل طور پر بحال کرے گا اور اگلے 60 دن کے لیے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کے سفر کو محفوظ بنائے گا۔

اس تاریخی امن معاہدے کے تحت ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر مالیت کا ایک خطیر پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت امریکا ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثوں کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے فوری اجازت نامے دے گا اور ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت پر خصوصی چھوٹ حاصل ہوگی۔

متن کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی زیرِ نگرانی باہمی اتفاق سے ہوگا، جس کے بعد دونوں ممالک حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں گے اور اس حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close