امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچ گئے ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس پر ڈرونز اور اسنائپرز کے ذریعہ مبینہ دہشتگرد حملے کی سازش کو پکڑ کر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس ودیگر اعلیٰ شخصیات کے قتل کی سازش کو ناکام بنا دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مبینہ دہشتگرد منصوبے پر عمل 14 جون کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں UFC فریڈم 250 ایونٹ میں کیا جانا تھا، جو امریکا کی 250 ویں سالگرہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھی۔
مذکورہ تقریب میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی، جس میں سیکڑوں اہم شخصیات بھی شامل تھیں، جن کا تعلقات سیاست، کاروبار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔
تاہم ایف بی آئی نے اس سے قبل 10 جون کو یہ منصوبہ اس وقت ناکام بنا دیا جب ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کی اطلاع ملنے پر متعدد ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کر لیا جب کہ تحقیقات میں مجموعی طور پر 23 افراد کو اس سازش کا حصہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والے سب سے بڑے دہشت گرد حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔
امریکی تحقیقاتی ادارے اس بھیانک سازش تک اس وقت پہنچے جب 19 سالہ ٹائسن پراپر کے والدین نے متعلقہ حکام کو اپنے بیٹے کی پراسرار سرگرمیوں کی رپورٹ دے کر اس کی گرفتاری میں امریکی حکام کی مدد کی۔
اس کے بعد تفتیش کاروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مشتبہ افراد کے موبائل فونز اور خفیہ پیغام رسانی کی ایپ “سگنل” پر ہونے والی گفتگو تک رسائی حاصل کی جہاں حملے کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مشتبہ افراد 12 اور 13 جون کو ریاست ورجینیا کے شہر فریڈرکسبرگ میں جمع ہونے والے تھے تاکہ حملے کی حتمی تیاریوں کو مکمل کیا جا سکے۔
19 سالہ نوجوان پر امریکا کے خلاف جرم کرنے کی سازش اور امریکا کے کسی افسر یا ملازم کے قتل کی کوشش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بعد میں پراپر کے گھر کی تلاشی لی اور DC کی تفصیلی تصویروں کے ساتھ ایک چیٹ ملا، جس میں اسنائپر کے مقامات اور “ڈرون لانچ کرنے کے ممکنہ مقامات، اور دیگر تفصیلی حکمت عملی کی منصوبہ بندی” کی وضاحت کی گئی تھی
ایف بی آئی نے گرفتار ملزمان سے تحقیقات کے بعد بتایا کہ سازش کرنے والوں کا منصوبہ یہ تھا کہ دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے تقریب کے قریب عمارتوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر بھگدڑ مچ جائے۔
ساش کرنے والے گرفتار ملزمان کے مطابق بھگدڑ مچنے کے بعد وہاں سے بھاگنے والے ہجوم کو پہلے سے تعینات اسنائپر ٹیم اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی جس سے اور زیادہ جانی نقصان ہوتا۔
ایف بی آئی حکام کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حملہ آور وائٹ ہاؤس کے داخلی دروازوں پر دھاوا بولنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مشتبہ افراد مبینہ طور پر سیاست دانوں، ارب پتی شخصیات اور ان افراد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جنہیں وہ امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی یا امریکی اشرافیہ سے وابستہ سمجھتے تھے۔
بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان انتہا پسند اور حکومت مخالف نظریات رکھتے تھے تاہم اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق، مبینہ سازش میں ملوث ایک اور فرد، ابراہم الواریز، نے مبینہ طور پر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ارب پتی ایلون مسک کو نشانہ بنانے پر بات کی۔
ایف بی آئی نے گرفتار ملزمان کی مکمل شناخت اور قومیتیں تاحال ظاہر نہیں کی ہیں تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ایک مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ ٹائسن پراپر کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تفصیلات عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔دریں اثنا ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کی بدولت حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






