اسلام آباد: وفاقی حکومت نے صحت سہولت پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا جس کے تحت وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں کے مستحق شہریوں کو علاج کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے ایک ٹیچنگ ہسپتال کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کئی سال سے غیرفعال صحت سہولت پروگرام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے ہزاروں مستحق خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت جڑواں شہروں کے 42 ہسپتالوں کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ ان ہسپتالوں میں رجسٹرڈ مستحق مریض مختلف بیماریوں کے علاج، سرجریز، تشخیصی ٹیسٹوں اور دیگر طبی خدمات سے مفت استفادہ کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صحت سہولت پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی ہسپتال پروگرام کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے یا کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور اسے پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا۔ عوام کے لیے مختص وسائل کے غلط استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت مستقبل میں اس پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ ملک کے دیگر حصوں کے مستحق افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






