وزیرِاعظم شہباز شریف کی بڑی یقین دہانی یا پشاور کے لیے سرپرائز؟

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت ضم شدہ اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا، جو صوبے کے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔

نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا اور صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، تاہم اگر مقررہ مدت میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھجوا کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ اپڈیٹ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا، جو خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ علاقوں کے عوام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

محمد سہیل آفریدی کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام (اے آئی پی) میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک کم ہوئی ہے، تاہم صوبائی حکومت مزید بہتری کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس پر عمل درآمد ممکن نہیں تو صوبوں کو اپنی پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبرپختونخوا کو فراہم کی جائے گی اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور 5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تعلیم، صحت اور امن و امان صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں جبکہ احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، زمنگ کور اور ’’کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ جیسے فلاحی منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا انقلابی منصوبہ ہے جس کے ذریعے خیبرپختونخوا کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کے مجموعی جنگلات کا تقریباً 45 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ صوبے کے کل رقبے کا 26.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلات کے مزید فروغ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا اور نجی اراضی پر اگائے گئے درختوں کو حکومت خود خرید کر مالکان کو ادائیگی کرے گی تاکہ شجرکاری کی حوصلہ افزائی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنجر اراضی پر شجرکاری کرنے والے افراد کو بھی حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ صوبے میں جنگلات کے رقبے میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close