کراچی : جامعہ کراچی میں اساتذہ کے احتجاج اور تدریسی بائیکاٹ کے 37 روز مکمل ہونے کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کا تعلیمی سال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کا احتجاج اور تدریسی بائیکاٹ بدستور جاری ہے، جبکہ انجمنِ اساتذہ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔
اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر سید غفران عالم کی قیادت میں وائس چانسلر آفس کے باہر دھرنا بھی جاری ہے۔
جنرل باڈی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک مطالبات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، تدریسی بائیکاٹ ختم نہیں کیا جائے گا۔
اساتذہ کے مطابق ہاؤس رینٹ سیلنگ کے بقایاجات، ایوننگ پروگرام کے ڈھائی سال سے رکے ہوئے واجبات، لیو انکیشمنٹ، امتحانی ادائیگیاں اور ریٹائرڈ ملازمین کے فنڈز طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق ہاؤس رینٹ میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب جامعہ کراچی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاج سے قبل ہی اساتذہ کو یونیورسٹی کی مالی مشکلات سے آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ حکومت سے مالی گرانٹ اور بیل آؤٹ پیکیج کے لیے رابطہ کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت جامعہ میں سمسٹر بریک جاری ہے، تاہم اساتذہ نے شام کی کلاسوں اور امتحانات کے بائیکاٹ کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان تعطل کے باعث تعلیمی شیڈول شدید متاثر ہے، جبکہ امتحانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے طلبہ کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






