پاکستانی حکام نےان قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی بحالی یا ’’ابراہم معاہدوں‘‘کے فریم ورک کے تحت کسی ڈیل سے جوڑا جا رہا تھا۔
دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ پاکستان کا فلسطین سے متعلق مؤقف ’’واضح اور غیر تبدیل شدہ‘‘ ہے اور بعض امریکی حلقے دانستہ طور پر اسلام آباد کی پالیسی کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی سینیٹر گراہم نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور قطر ممکنہ طور پر ابراہم معاہدوں میں شامل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایران سے متعلق مذاکرات اور خطے میں وسیع تر پیش رفت کے تناظر میں۔
سینیٹر گراہم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا’’اگر ایران کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہمارے عرب اور مسلم اتحادی ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے پر متفق ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے اہم معاہدوں میں سے ایک ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اس معاہدے میں شامل ہونا ’’خطے اور دنیا کے لیے انتہائی انقلابی تبدیلی‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کسی بھی گفتگو یا بیان میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق’’صدر ٹرمپ نے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا، تاہم سینیٹر گراہم اس کے بارے میں بےچینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ان عناصر کی نمائندگی کرتے ہیں جو امن کے مخالف ہیں اور ہر ممکن طریقے سے غلط فہمی اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید واضح کیا کہ پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق ’’بالکل واضح‘‘ ہے، جبکہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






