پاکستان میں سرکاری اداروں کے سربراہان کی ’’شاہانہ تنخواہیں‘‘! ہوشربا انکشافات

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری دستاویزات میں مختلف سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے سرکاری شعبے میں بھاری معاوضوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی اہم مالیاتی اور انتظامی اداروں کے سربراہان لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ انہیں اضافی الاؤنسز اور دیگر مراعات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی ماہانہ تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے، جبکہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے صدر کو تقریباً 54 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تنخواہ ایک کروڑ 53 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے، جس کے ساتھ دیگر مراعات بھی شامل ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق ایگزم بینک آف پاکستان صدر کی ماہانہ تنخواہ 50 لاکھ روپے جبکہ فرسٹ ویمن بینک کی صدر کو 22 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ ادائیگی کی جا رہی ہے۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی تنخواہ 36 لاکھ 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔اسی طرحپاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے سی ای او کو 52 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کے ساتھ 15 فیصد اضافی الاؤنس بھی دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان سنگل ونڈو کے چیف ایگزیکٹو کی تنخواہ 26 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد ہے، جس کے ساتھ 89 ہزار روپے الاؤنس بھی شامل ہے۔

دستاویز منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل اور عوامی حلقوں میں سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں اور مراعات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close