روس کا یوکرین پر ‘اوریشنک’ میزائل سے حملہ، ہر طرف تباہی پھیل گئی

روس نے اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر سیکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے اب تک کا سب سے بڑا اور ہولناک حملہ کیا ہے، جس نے چار سال سے جاری اس جنگ کی ہولناکی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس حملے کی سب سے بڑی اور خطرناک بات یہ تھی کہ روس نے کیف کے قریب پہلی بار ’اوریشنک‘ نامی ایک انتہائی جدید ہائپر سونک میزائل داغا ہے جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی اس بمباری کے نتیجے میں کیف اور اس کے قریبی علاقوں میں چار افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے۔ دھماکوں کی وجہ سے کیف کے وسط میں واقع درجنوں رہائشی عمارتیں اور کئی اسکول تباہ ہو گئے جبکہ یوکرین کے جنوبی علاقے خیرسون میں بھی میزائل لگنے سے دو افراد کی موت ہوئی ہے۔
اس شدید تباہی کے بعد یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا ایپ ’ٹیلی گرام‘ پر اپنے ایک پیغام میں دنیا کے بڑے ممالک سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ روس کو اس وحشیانہ اقدام کی قیمت چکانی پڑے اور اس کے یہ حملے بغیر کسی انجام کے نہ رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا، یورپ اور دیگر اتحادی ممالک ہمارے حق میں بڑے اور ٹھوس فیصلے کریں۔دوسری طرف کیف میں اس حملے کی وجہ سے جہاں یوکرین کی کابینہ اور وزارتِ خارجہ کی عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا، وہاں شہر کے وسط میں واقع نیشنل آرٹ میوزیم اور تاریخی فلہارمونک ہال بری طرح تباہ ہوئے۔

صدر زیلنسکی کے اعلیٰ مشیر کیریلو بڈانوف نے اس ثقافتی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف زمین کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہماری ثقافت، ہماری یادوں اور ہماری پہچان کے خلاف جنگ ہے، کیونکہ ماسکو صدیوں سے ہر اس چیز کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمیں یوکرینی بناتی ہے۔اس حملے میں سنہ 1986 کے چرنوبل جوہری حادثے کی یاد میں نیا کھلا میوزیم بھی مکمل تباہ ہو گیا جس پر صدر زیلنسکی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے سخت غصے کا اظہار کیا۔

شہر کے مرکز میں ایک کیفے، جو صرف ایک دن پہلے ہی کھلا تھا، اتوار کی صبح ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا لیکن وہاں کا عملہ شیشے صاف کر کے گاہکوں کو چائے کافی پیش کر رہا تھا تاکہ حوصلہ برقرار رہے۔

کیفے کے مالک یووگینی پروساک نے افسردہ لہجے میں کہا کہ ایک بار جب یہ جذباتی ماحول تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے گا، تب ہم سوچیں گے کہ کیا سب کچھ دوبارہ ٹھیک کرنا ہے یا اب کام ہی بند کر دینا ہے۔عسکری ماہرین کے مطابق جنگ کی شروعات سے اب تک روس نے تیسری بار اس خطرناک اوریشنک میزائل کا استعمال کیا ہے، جس کا وار ہیڈ گرتے وقت 36 چھوٹے بموں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے مجموعی طور پر 90 میزائل اور 600 ڈرونز داغے، جن کا مقصد گرمیاں شروع ہونے سے پہلے پانی کی سپلائی کے نظام کو تباہ کرنا تھا۔دوسری جانب روس کی وزارتِ دفاع نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے یہ کارروائی روس کے شہری علاقوں پر یوکرین کے حملوں کے جواب میں کی ہے۔

روسی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان فضائی حملوں کا نشانہ یوکرینی فوج کے کمانڈ سینٹرز، زمینی فوج اور ملٹری انٹیلی جنس کے دفاتر، فضائی اڈے اور اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں تھیں، اور روس شہریوں پر حملے کی تردید کرتا ہے۔

اس حملے نے کیف کے شمالی علاقے لوکیانوکا کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک شاپنگ مال اور مارکیٹ آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close