6 سے کم یا 8 گھنٹے سے زیادہ سونے سے حیاتیاتی بڑھاپے کی علامات تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں، تحقیق

6 سے کم یا 8 گھنٹے سے زیادہ سونے سے حیاتیاتی بڑھاپے کی علامات تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں، تحقیق

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو چھ گھنٹے سے کم یا آٹھ گھنٹے سے زیادہ سوتے ہیں، ان میں حیاتیاتی بڑھاپے کی علامات زیادہ تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق مثالی نیند تقریباً سات گھنٹے ہے، اور جو لوگ روزانہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے تک سوتے ہیں ان میں بڑھاپے کی علامات نسبتاً کم دیکھی گئیں۔

جدید فٹنس ٹریکرز اور اسمارٹ گھڑیوں نے یہ جاننا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے کہ کوئی شخص ہر رات کتنی اور کیسی نیند لے رہا ہے۔ اگرچہ کم نیند کے نقصانات پہلے ہی اچھی طرح ثابت ہو چکے ہیں، لیکن ایک نئی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہت زیادہ نیند لینا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور کولمبیا یونیورسٹی ویگیلوس کالج آف فزیشنز میں ریڈیولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر جون ہاؤ وین کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف نیند کا دورانیہ ہی اعضاء کو تیزی سے بوڑھا یا جوان بناتا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ بہت کم یا بہت زیادہ نیند جسم کی مجموعی صحت کے خراب ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔

حیاتیاتی بڑھاپا کیا ہوتا ہے اور اس کا کیسے پتہ چلایا جاتا ہے؟ عام عمر کے برعکس حیاتیاتی بڑھاپا جسم کی جسمانی صلاحیتوں میں بتدریج کمی کو ظاہر کرتا ہے، جیسے خلیات کی خود کو مرمت کرنے کی صلاحیت کا کم ہونا شامل ہے، جس سے بیماری اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حیاتیاتی عمر دراصل جسم کے اعضا اور ٹشوز کی فعال عمر ہوتی ہے جو جینیات، ماحول اور طرزِ زندگی سے متاثر ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے اریونگ میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے برطانیہ کے یوکے بایوبینک کے تقریباً پانچ لاکھ شرکا کا ڈیٹا استعمال کیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جسم کے مختلف اعضاء میں بڑھاپے کی علامات کا جائزہ لیا۔

یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی جس میں اے آئی پر مبنی ایجنگ کلاکس استعمال کیے گئے تاکہ اعضاء میں ہونے والی خرابی اور عمر رسیدگی کی پیمائش کی جا سکے۔ محققین نے طبی تصاویر، اعضا سے متعلق پروٹینز اور خون میں موجود مخصوص مالیکیولز کا ڈیٹا جمع کیا۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے شرکا کی بتائی گئی نیند کے دورانیے اور جسم کے 17 مختلف نظاموں سے متعلق 23 ایجنگ کلاکس کے نتائج کا موازنہ کیا۔ دماغی بیماریوں میں کم نیند کا تعلق خاص طور پر ڈپریشن اور اینزائٹی ڈس آرڈر سے پایا گیا، جیسا کہ پہلے کی تحقیقات میں بھی دیکھا جا چکا ہے۔ کم نیند کا تعلق موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی شریانوں کی بیماری اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی سے بھی سامنے آیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close