ریٹائرڈ ملازمین کیلیے اہم خبر آگئی

سندھ ہائیکورٹ نے پی آئی اے کے متاثرہ تمام ریٹائرڈ ملازمین کی میڈیکل سہولت بحال کر دی۔

عدالت نے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ساتھ کیا گیا معاہدہ قانون کے خلاف قرار دے دیا۔ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی نے ریٹائرڈ ملازمین کی میڈیکل سہولت منجمد کر دی تھی۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے کے تمام ملازمین کی میڈیکل سہولتیں بغیر کسی تعطل فراہم کی جا رہی ہیں۔

میڈیکل سہولتیں 2016 کے قانون اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے دی جاتی ہیں، 2026 کے آرڈیننس میں 2016 کے ایکٹ کی طبی سہولیات کو تحفظ دیا گیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے پی آئی اے ملازمین کے ساتھ غیر مساوی سلوک کا بھی بھرپور نوٹس لیا۔

یاد رہے کہ 2 مئی 2026 کو کراچی کی عدالت نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات سے متعلق درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے انتظامیہ کے حالیہ احکامات کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ ملازمین کیلیے طبی سہولیات کا پرانا نظام فوری طور پر بحال کیا جائے۔ درخواست ایئر لیگ کے صدر شمیم اکمل اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے نئے انشورنس معاہدے کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کو مخصوص اسپتالوں اور محدود ادویات تک پابند کر دیا تھا، نان پینل سروسز کے اخراجات کا معاوضہ ختم کر دیا گیا تھا، جس سے بزرگ ملازمین شدید متاثر ہو رہے تھے۔

درخواست میں کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ‘پرسنل پالیسی مینوئل’ کے تحت ریٹائرڈ ملازمین او پی ڈی اور اسپیشلسٹ کے اخراجات حاصل کرنے کے حقدار ہیں، اور نیا معاہدہ ‘پی آئی اے کارپوریشن ایکٹ’ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلیے منظور کی تھیں۔

عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں اور نئے انشورنس نظام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پرانی پالیسی کے تحت تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close