پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کا دورہ کیا جہاں آنکھوں کے علاج، ٹیلی میڈیسن، طبی تربیت اور ازبک مریضوں کے ریفرلز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وہ سیکنڈ سیکریٹری روشن جومانوف کے ہمراہ الشفاء ٹرسٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان اور ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر خالد یزدانی شاہ اور چیف آف میڈیکل سروسز ڈاکٹر واجد علی خان سے ملے ۔ انھیں الشفاء ٹرسٹ کے ملک گیر نیٹ ورک اور خصوصی طبی سہولیات پر بریفنگ دی گئی۔ملاقات میں مستقبل کے تعاون کے متعدد شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں ٹیلی میڈیسن، ازبک طبی عملے کی تربیت، طبی ٹیکنالوجی اور ہسپتال مینجمنٹ سسٹمز کا تبادلہ، ووکیشنل ایجوکیشن، مشترکہ ورکشاپس اور خصوصی تربیتی پروگرام شامل ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان طبی تعاون کو باضابطہ شکل دینے کیلئے معاہدہ پر غور کیا گیا۔صدر جنرل رحمت خان نے سفیر محترم کو بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ اپنی خدمات بین الاقوامی سطح پر بھی بڑھا رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ادارے نے صومالیہ میں 5,632 مریضوں کا علاج کیا اور 400 سے زائد موتیا کے آپریشن کیے جو افغانستان اور مشرقی افریقہ سمیت پسماندہ خطوں میں توسیعی منصوبے کا حصہ ہیں۔ازبکستان کے ساتھ یہ رابطہ وسطی ایشیا میں الشفاء کی پہلی باضابطہ طبی رسائی ہے جہاں دیہات میں قرنیہ کے علاج، ذیابیطس سے متاثرہ بینائی کی اسکریننگ اور بچوں کی آنکھوں کے علاج کی سہولیات محدود ہیں۔ اس تعاون کو باضابطہ شکل ملنے سےازبک مریضوں کے بیرون ملک خصوصی علاج کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں جبکہ پاکستان کے طبی شعبے کے لیے تربیت اور طبی خدمات کی برآمد کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ازبک سفیر نے ہسپتال کے مریض ماحول اور بین الاقوامی طبی معیار پر عملدرآمد کو سراہا۔طبی خدمات اور تربیت میں دوطرفہ تعاون کا فروغ علاقائی طبی اشتراک کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ملاقات میں الشفاء ٹرسٹ کے ہیڈ آف مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ راجہ صبیح شمیم اور سفارت خانے کے افسران موجود تھے۔الشفاء ٹرسٹ سات ہسپتالوں اور ہزاروں طبی کیمپوں کے ذریعے پاکستان کا سب سے بڑا آئی کیئر آؤٹ ریچ نیٹ ورک چلا رہا ہے اور اپنے 80 سے 90 فیصد مریضوں کو مفت علاج فراہم کرتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






