26 فیصد زیادہ بارشوں کا خدشہ، وارننگ جاری

راولپنڈی:    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کسان ونگ خالد نواز سدھرائچ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ متوقع شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر فوری اور جامع احتیاطی و حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بروقت متحرک کیا جائے، بصورت دیگر کسی بھی تاخیر کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر گزشتہ برسوں جیسی تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگ میڈیا سینٹر سے منگل کو جاری بیان میں خالد نواز سدھرائچ نے کہا کہ محکمہ موسمیات اور دیگر حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ سال 2026 کے مون سون سیزن میں معمول سے 26 فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے جس سے گزشتہ برسوں کی طرح تباہ کن سیلابوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً گلیشیئرز کے پھٹنے اور پگلھنے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد خصوصاً کسان اور دیہی آبادیاں ایک بار پھر شدید تباہی کا سامنا کریں گی ۔ خالد نواز سدھرائچ نے کہا کہ گزشتہ سال کے سیلاب نے عام لوگوں بالخصوص کسان برادری کی زندگیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ملک بھر میں ہزاروں مکانات منہدم ہوئے، کھڑی فصلیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں، مویشی ہلاک ہو گئے جبکہ زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود متاثرہ کسانوں اور سیلاب زدگان کو آج تک ان کے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہیں دیا گیا۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں، محکمہ آبپاشی اور مقامی انتظامیہ پر زور دیا کہ نالوں کی فوری صفائی، حفاظتی بندوں کی مضبوطی، ریسکیو مشینری کی فراہمی، ہنگامی امدادی کیمپوں کے قیام اور انسانی جانوں، فصلوں، مویشیوں اور گھروں کے تحفظ کے لیے پیشگی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان پہلے ہی کھاد، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور فصلوں کی کم قیمتوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر مناسب تیاری کے بغیر ایک اور سیلابی آفت آئی تو زرعی شعبہ مکمل تباہ ہو جائے گا اور قومی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔خالد نواز سدھرائچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامع فلڈ مینجمنٹ حکمت عملی اختیار کی جائے، امدادی کارروائیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے اور ملک کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے پاک افواج خصوصاً پاکستان فضائیہ کے نڈر شاہینوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور بے مثال بہادری کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے معرکہ حق میں بھارت کے غرور اور جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا کر حب الوطنی اور قومی دفاع کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کے لیے دی جانے والی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے شہداء اور غازیوں کی خدمات اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جنہوں نے غیر معمولی عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ وطن عزیز کا دفاع کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرز عمل اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ قوم کو اس وقت بے شمار دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close