وزیر مملکت اور چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے X پر فری لانسرز اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور میں صرف پڑھنا کافی نہیں، اے آئی کے ساتھ کام بنا کر سیکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، کیوں کہ دنیا بھر کے فری لانسرز کے لیے اے آئی نیا چیلنج بن گیا ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایک ورک ماڈل تیار کر لیا ہے، اور اپنے تجربے کو انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ انھوں نے کہا اے آئی کی خودکار عمل درآمد اور کام کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس پر مشتمل ورچوئل ٹیم چلا کر نئے ورک ماڈل کی مثال قائم کر دی، اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او، انجینئر اور ڈیزائنر پر مشتمل ہے، تاہم انھوں نے کہا اے آئی ورکنگ ماڈل میں فیصلوں کی منظوری انسان کے ہاتھوں ہی میں رہے گی۔
چیئرمین پیوارا نے کہا اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے رابطہ، کام کی تقسیم اور مسائل کی نشان دہی بھی خود کرتے ہیں، ورکنگ ماڈل میں جیسے جیسے کام کا دائرہ بڑھتا ہے، اے آئی ایجنٹس نئے وسائل اور ٹیم ممبرز کی ضرورت بھی خود بتاتے ہیں، انھوں نے کہا اے آئی ایجنٹس کے اخراجات اور کامیابی کی شرح ریئل ٹائم میں مانیٹر کی جا سکتی ہے۔
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ 1.5 ٹریلین ڈالر کی عالمی فری لانسرز معیشت کو اے آئی ماڈل سے بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔ انھوں نے ایکس پر پیغام دیا کہ ریسرچ، ایگزیکیوشن اور کوآرڈینیشن جیسے روایتی ہنر تیزی سے خودکار ہونے لگے ہیں، اور مستقبل میں بڑی کمپنیاں بڑے عملے سے نہیں، کم مگر باصلاحیت انسانی نگرانی اور اے آئی ورک فورس سے چلیں گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






