کراچی: آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے لاک ڈائون کے خلاف 14 مئی کو احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا اگر لاک ڈان 14 مئی تک ختم نہ کیا تو رات 8 بجے دکانیں بند کرکے احتجاج کریں گے۔رپورٹ کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک بھر میں کاروباری صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ ملک بھر کی دکانیں ڈنڈے سے بند کرائی جارہی ہیں ، جبکہ تاجر، صنعت کار اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ لاک ڈان اور کاروباری پابندیوں کے خلاف 14 مئی کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، اگر صورتحال نہ بدلی تو دکانیں رات 8 بجے بند کر کے احتجاج کیا جائے گا۔تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سالوں سے مختلف شعبے بحران کا شکار ہیں، گندم کے کسان پہلے ہی نقصان اٹھا چکے ہیں جبکہ پیاز اور آلو کی فصلیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر صنعتیں اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، جبکہ دکانداروں سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لی جاتی ہے۔ جیولرز پر ٹیکس کے حوالے سے دبا کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں بعض اوقات غیر معمولی ٹیکس مطالبات سامنے آتے ہیں۔اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کو دھمکیوں اور دبا کا سامنا ہے، جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔اجمل بلوچ نے پنجاب میں لاگو قوانین پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ پہلی بار وفاقی سطح پر ایسے اقدامات دیکھے جا رہے ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت اور وزیراعلی سندھ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہاں تاجروں سے مشاورت کی گئی ہے جبکہ مطالبات میں دکانیں رات 10 بجے تک کھولنے اور ہوٹلوں کو دیر تک کام کرنے کی اجازت دینے کی اپیل بھی شامل ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






