پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات اب مختلف شعبوں میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، اور موبائل فون انڈسٹری بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ موبائل فون کمپنیوں نے لاگت میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے قیمتوں میں تین سے پانچ ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں فروخت میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
موبائل کمپنیوں اور ڈیلرز کے مطابق فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی نے مجموعی سپلائی چین اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے بعد موبائل فونز کی فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیلرز کا کہنا ہے کہ پہلے روزانہ دس سے بارہ موبائل فون سیٹس فروخت ہو جاتے تھے، تاہم اب خریداروں کی تعداد کم ہو گئی ہے اور لوگ خریداری میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
صرف موبائل فون ہی نہیں بلکہ اس سے منسلک اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ہینڈز فری، موبائل کور، اسکرین پروٹیکٹر اور دیگر ایسیسریز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کچھ کمی آ سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






