عباس عراقچی کے دورہِ پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان ملاقات ہو گی یا نہیں؟ اہم خبر آگئی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ اس اہم دورے کے حوالے سے جہاں ایک طرف عالمی میڈیا میں پاکستان کی سرزمین پر ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست ملاقات کی خبروں نے زور پکڑا ہوا ہے، وہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فی الحال ایسی کسی بھی ملاقات کے منصوبے کی تردید کر دی ہے۔

اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ عباس عراقچی کے دورے کا مقصد پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرنا ہے، جن میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر بات چیت شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے، بلکہ ایرانی وفد اپنے مؤقف اور مشاہدات پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی روانگی سے قبل کہا تھا کہ ایران اپنی سفارتی حکمت عملی میں ہمسایہ ممالک کو ترجیح دیتا ہے اور ان کے اس دورے کا مقصد قریبی شراکت داروں سے مشاورت کرنا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی وفد کی پاکستان روانگی کی تصدیق کی ہے۔

ان کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔

امریکی ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود رابطہ کر کے بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال امریکا میں موجود رہ کر صورتحال پر نظر رکھیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر تمام متعلقہ حکام کو پاکستان روانگی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیمیں پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں، جس سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں اسلام آباد کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور رابطہ ہی بہترین راستہ ہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے مثبت اور مستقل سفارتی کردار کی قدر کرتا ہے اور اس سلسلے میں رابطے جاری رکھے جائیں گے۔ پاکستان کی کوششوں کا مقصد دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے، جن کے درمیان پہلا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا تھا۔

تاہم اس سفارتی عمل کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت بیان میں امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں موجود ایرانی گن بوٹس کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی ہے اور بحری ناکہ بندی جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے۔

اسی تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پر عدم اعتماد ان مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ان کے مطابق ایران ہمیشہ معاہدوں کا حامی رہا ہے، لیکن دنیا امریکا کے بیانات اور عملی اقدامات کے تضاد کو دیکھ رہی ہے، اور دھمکیوں کے ماحول میں سنجیدہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close