آبنائے ہرمز کن شرائط پر کھولی گئی؟ ایرانی میڈیا تفصیلات سامنے لے آیا

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے تین سخت شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا ہے، تاہم خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مبینہ معاہدے کی تفصیلات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔

ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ اس کے علاوہ دشمن ممالک کے جہاز یا وہ جہاز جن پر ان ممالک کا سامان موجود ہوگا، انہیں بھی اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہازوں کو ایران کے متعین کردہ روٹ سے گزرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہیں گے۔

تسنیم نیوز کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو جنگ بندی کے دوران صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی میری ٹائم اتھارٹی اس کے لیے باقاعدہ روٹ بھی طے کر چکی ہے۔

تاہم بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھل چکا ہے لیکن ایران پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ مکمل معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close