شہریت قوانین میں اہم ترامیم متعارف

اہم خلیجی ملک کویت نے شہریت سے متعلق قوانین میں بڑی ترامیم متعارف کرا دی ہیں، جبکہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ان نئے قواعد کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔

نئے قوانین کے مطابق کویتی الاصل شہری وہ تصور کیے جائیں گے جو 1920 سے قبل سے کویت میں مقیم ہوں اور 1959 تک وہاں رہائش پذیر رہے ہوں، جبکہ نسب کی بنیاد پر شہریت کے تحت کویتی باپ کے بچے کو، چاہے اس کی پیدائش دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوئی ہو، کویتی شہری تسلیم کیا جائے گا۔

ان ترامیم کے تحت کویتی شہری سے شادی کی بنیاد پر خودکار شہریت دینے کا عمل ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح کویتی ماں کے بچوں کو مخصوص حالات میں عارضی شہریت دی جا سکے گی، جیسے کہ اگر والد کا انتقال ہو چکا ہو، طلاق ہو چکی ہو یا وہ قید میں ہو۔

خواتین کی شہریت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کویتی خاتون کسی غیر ملکی سے شادی کرے تو اس کی شہریت برقرار رہے گی، تاہم بعض حالات میں، جیسے طلاق یا اولاد نہ ہونے کی صورت میں، شہریت منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔

مزید یہ کہ کویتی شہریت حاصل کرنے والے افراد کے لیے لازم ہوگا کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنی غیر ملکی شہریت ترک کریں۔ اس کے علاوہ دھوکہ دہی، ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ بننے یا کسی غیر ملکی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کی صورت میں بھی شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

نئے قوانین میں یہ بھی شامل ہے کہ شہریت سے متعلق تنازعات میں ڈی این اے ٹیسٹ اور بائیومیٹرک شواہد کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ شہریت کے فیصلوں پر حاکمانہ اختیار ہوگا اور عدالتوں کو ان معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close