فلپائن میں حکام نے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو ایک نئے اور بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ کے حوالے سے خبردار کیا ہے، جس میں امیدواروں کو پرکشش جاب آفرز کے ذریعے مالی نقصان اور انسانی اسمگلنگ کے خطرات میں دھکیلا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فراڈ عام طور پر اس وقت شروع ہوتا ہے جب غیر مجاز یا جعلی ریکروٹرز سوشل میڈیا، ای میل یا میسجنگ ایپس کے ذریعے افراد سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں بیرون ملک، خصوصاً کروز شپ یا دیگر بین الاقوامی کمپنیوں میں ملازمت کی پیشکش کرتے ہیں۔
جعلی ملازمت کی پیشکش کا طریقہ کار
ان جعلی آفرز میں متاثرین کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ انہیں بغیر کسی مشکل کے نوکری مل جائے گی، تاہم بعد ازاں ان سے مختلف مراحل کے نام پر پیشگی فیسیں طلب کی جاتی ہیں، جن میں ویزا پروسیسنگ، ٹریننگ، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ایک عام “ایڈوانس فیس اسکم” ہے، جس میں رقم ادا کرنے کے بعد نہ ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی رابطہ برقرار رہتا ہے۔
مختلف جعلی حربے
ماہرین کے مطابق اس طرح کے فراڈ میں بعض اوقات درج ذیل طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں:
- فرضی ویزا اور آفر لیٹرز تیار کرنا
- اصلی کمپنیوں کے نام اور لوگو کی نقل کرنا
- فوری یا “گارنٹیڈ جاب” کا وعدہ کرنا
- غیر سرکاری ای میلز یا واٹس ایپ کے ذریعے انٹرویو لینا
- درخواست دہندگان سے فوری رقم کی ادائیگی کا مطالبہ
انسانی اسمگلنگ کا خطرہ
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسے فراڈ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ بعض کیسز میں متاثرین کو بیرون ملک لے جا کر انسانی اسمگلنگ یا جبری مشقت کے نیٹ ورکس کا حصہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق خطے میں ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس میں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں، جہاں انہیں دھوکہ دہی کے ذریعے ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔
حکومتی ہدایات
فلپائنی حکام نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد صرف سرکاری طور پر منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ذریعے ہی درخواست دیں۔
اس کے علاوہ کسی بھی ایسی پیشکش پر اعتماد نہ کیا جائے جس میں:
- پیشگی رقم مانگی جائے
- فوری یا بغیر انٹرویو ملازمت کی یقین دہانی ہو
- غیر سرکاری ذرائع سے رابطہ کیا جائے
نتیجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ساتھ ایسے فراڈ بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس لیے عوام کو انتہائی احتیاط اور تصدیق کے بعد ہی کسی بھی جاب آفر کو قبول کرنا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






