پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، تاہم فی الحال ان ملاقاتوں کی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان میں جاری جنگ بندی کا تسلسل انتہائی ضروری ہے
ترجمان طاہر اندرابی نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ثالثی کی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ہی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ شب ایران پہنچے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ممالک کے اہم دورے پر ہیں۔
طاہر اندرابی نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں پاکستان کے اس مثبت اور مصالحانہ کردار کو سراہا جا رہا ہے اور یہ دورے ہماری قیامِ امن کی مخلصانہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا یہ دور تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔ اورط اس دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں فریقین کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تھا۔
طاہر اندرابی نے اسحاق ڈار کے گزشتہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے ان مذاکرات کے جاری رہنے کی جو امید ظاہر کی تھی، وہ اب سچ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ دونوں فریقین ایک بار پھر میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے صرف بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی موجودہ تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کا مقصد خطے کو جنگ کے سائے سے نکال کر استحکام کی طرف لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاحال مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وقت کا تعین نہیں ہوا لیکن سفارتی سطح پر تیاریاں عروج پر ہیں اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






