گاڑیوں کی کمپنی میں بھیانک آگ بھڑک اٹھی ، بری خبر

چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں

کمپنی کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز، جن کی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بھی تصدیق کی ہے، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔

بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔

اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے۔

مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close