اسلام آباد گزشتہ سال جون میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ نے کہا ہے کہ بیٹی کے قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود ہم اب تک انتظار کے منتظر ہیں اور میں نے اس دوران کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔ اسلام آباد میں 17 سالہ انفلوئنسر ثنا یوسف کے افسوسناک قتل کو تقریبا ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی والدہ نے اپنے غم کی شدت بیان کی اور بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا، مگر اپنی بیٹی کی یاد نے انہیں حوصلہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں روز مرتی ہوں اور روز جیتی ہوں، کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، میں نے بیٹی کے بغیر نہیں رہنا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ نہیں بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو انصاف اس لیے بھی دلانا ہے تاکہ باقی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ ثنا کے ساتھ انصاف ہوا تھا تو ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے لیکن ملزم کی جانب سے ہائی کورٹ میں کوئی درخواست دی گئی ہے جس کی وجہ سے اتنا وقت گزرگیا ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






