ایران کے بعد اگلا ہدف کونسا ملک ؟ ٹرمپ نے بڑی دھمکی دیدی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بعد کیوبا کی باری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے تاہم وہ پہلے ایران جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد دیگر معاملات دیکھیں گے۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا موجودہ فوکس ایران کے ساتھ جاری تنازعے پر ہے اور وہ پہلے اسے حل کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد دیگر خارجہ پالیسی امور بشمول کیوبا کے ساتھ تعلقات پر توجہ دی جائے گی۔

امریکی صدر نے وینزویلا کی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا بہت اچھا کر رہا ہے اور اسے مستحکم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا اب پہلے سے بہت زیادہ تیل کی کمائی کر رہا ہے اور ڈیلسی روڈریگز صدارت کے لیے ایک شاندار شخصیت ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میجر لیگ ساکر چیمپیئنز انٹر میامی سی ایف کے اعزاز میں ہونے والے پروگرام کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے اس تنازعے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد واشنگٹن کی سفارتی کوششیں ہوانا کی جانب منتقل ہو سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کیوبا واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق جب تعلقات بہتر ہوں گے تو بہت سے کیوبائی امریکی آخرکار جزیرے واپس جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکا ملک اور اس کے عوام کے ساتھ قریبی تعلقات کا خیرمقدم کرے گا۔

ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم کے رویے پر حیرانی اور مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ بہت مایوس کن رہا ہے اور سب جانتے ہیں کہ دشمن ہم پر حملہ آور ہے، ایسے میں کیئر اسٹارمر کو بلا کسی ہچکچاہٹ کے اڈے فراہم کرنے چاہئیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close