ملک کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اسکردو، لنڈی کوتل اور شمالی وزیرستان میں تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ اسکردو میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کے باعث تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے مزید دو روز تک بند رہیں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور صورتحال بہتر ہوتے ہی تعلیمی سرگرمیاں بحال کر دی جائیں گی۔ تحصیل لنڈی کوتل، ضلع خیبر میں پاک-افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں کے تمام سرکاری اسکول غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تعلیمی اداروں کی دوبارہ بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
اسی طرح سرحدی کشیدگی کے باعث شمالی وزیرستان کے سرحدی دیہات میں بھی اسکول بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے طلبہ اور عملے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دوسری جانب نگران وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کی زیر صدارت اسپیشل اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ امن و امان کے قیام اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ حالات معمول پر لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رہیں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






