چترال، بجلی کی فراہمی کے لیے وادی عشریت کے لوگوں نے نئی تاریح رقم کر دی، 100 نوجوانوں کی75 کلومیٹر لانگ مارچ چترال آمد، بجلی کی فراہمی کا مطالبہ

چترال (آئی این پی )چترال کی پہلی بستی وادی عشریت کے لوگوں نے بجلی نہ ہونے کے خلاف عجیب انداز میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔ علاقے کے لوگوں نے اس سے پہلے عشریت میں جلسہ کرکے انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کو ایک ہفتے کے اندر بجلی نہیں دی گئی تو وہ چترال تک پیدل لانگ مارچ کریں گے۔ جب ان کا جائز مطالبہ پورا نہیں ہوا تو علاقے کے لوگوں نے عشریت سے لانگ مارچ شروع کیا۔

اس اثنا چار لڑکوں کو واپس بھیجا کیونکہ وہ مسلسل پیدل سفر کی وجہ سے بیمار پڑ گئے اور گیارہ لوگوں کو ہسپتال بھیجا جن کی پاوں میں چھالے پڑے تھے۔ لانگ مارچ کے شرکا کو راستے میں مختلف لوگوں نے ٹھنڈا پانی اور چائے پیش کی۔انہوں نے مسلسل 32 گھنٹے سفرکرکے جب چترال پہنچے تو اتالیق چوک میں ان کا والہانہ استقبال ہوا۔عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر الحاج عید الحسین اور ان کے پارٹی کے اراکین نے ان پر مٹھائی اور پھول نچاور کئے۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے قاضی نسیم نے بھی یکجہتی کے طور پر ان کے ساتھ اتالیق چوک میں کھڑے رہے۔ یہاں ایک مختصر جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس سے مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی ان کا بنیادی حق ہے اور 75 سالوں سے ان کو اس حق سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منتحب نمائندے صرف ووٹ لینے کیلئے یہاں آتے ہیں اس کے بعد دور بین میں بھی نظر نہیں آتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کو بجلی فراہم نہیں کی گئی تو وہ آئندہ انتحابات میں بائکاٹ کرکے کسی امیدوار کو بھی ووٹ نہیں دیں گے اور عشریت کے دس ہزار ووٹ ضائع جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عشریت کے اوپر نیچے سے بھی بجلی کی لائن آئی ہوئی ہے اور گولین بجلی گھر کا لائن بھی عشریت سے گزر کر نیچے اضلاع کو جاتا ہے مگر ہم ابھی تک بجلی سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عشریت کے لوگ ہمیشہ سے چترال بھر کے لوگوں کا خدمت کرتے آرہے ہیں جب لواری سرنگ نہیں بنا تھا تو اکثر لوگ لواری ٹاپ کے برف پوش چوٹی پر پیدل سفر کرتے تھے اور اس میں برفانی تودے گرنے سے اکثر لوگ جاں بحق بھی ہوتے جن کو عشریت کے لوگ برف سے نکال کر ورثا کے حوالہ کرتے اسی طرح جب بھی کوئی لواری ٹاپ پر سفر کرتے تو رات عشریت میں گزارتے اور وہ لوگ ان کی مہمان نوازی میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔ انہوں نے کہا کہ عشریت میں 1995میں بجلی کے کھنبے اور لائن بچھایا گیا ہے مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اس لائن میں ایک مرتبہ بجلی کی کرنٹ نہیں آئی۔لانگ مارچ کا یہ قافلہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر گیا جہاں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کرلی۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر سے باہر نکل کر مظاہرین سے محاطب ہوئے اور ان کو یقین دہائی کرائی کہ ایک مہینے کے اندر ان کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کے یقین دہانی پر اپنا احتجاج حتم کرنے کا اعلان کیا اور پر امن طور پر منتشر ہوئے۔۔۔۔