ایشیا کے متعدد بازاروں میں مرغی خریدار کے سامنے ذبح کی جاتی ہے اور لوگ اسے گھر لے جا کر خود صاف کرتے ہیں، جس پر اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آیا چکن کو دھونا ضروری ہے یا اس سے مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
روایتی طور پر بہت سے افراد چکن کو پانی، سرکے یا لیموں کے ساتھ دھوتے ہیں تاکہ اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے، تاہم فوڈ سیفٹی ماہرین اس عمل کو غیر مؤثر قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرکے یا لیموں سے دھونے سے بیکٹیریا قابلِ اعتماد طریقے سے ختم نہیں ہوتے بلکہ اس سے جراثیم پھیلنے اور غذا سے ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کو ختم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ چکن کو اچھی طرح پکانا ہے، جبکہ زیادہ تر پیک شدہ چکن پہلے ہی کمپنی کی جانب سے دھویا جا چکا ہوتا ہے، اس لیے گھروں میں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوسری جانب بعض شیف روایتی طور پر چکن کو دھونے اور اردگرد کی جگہ کو جراثیم کش محلول سے صاف کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ اس طریقے سے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، تاہم صفائی کے سخت اصول اپنانے سے کچھ حد تک تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی کھانوں میں برائننگ یعنی نمکین پانی میں چکن کو بھگونا ایک عام عمل ہے جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک یہ بھی دھونے جیسا ہی عمل ہے اور اس سے بیکٹیریا ختم نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق چاہے مرغی بازار سے تازہ لی جائے یا پیک شدہ ہو، اصل تحفظ صرف اچھی طرح پکانے سے ہی ممکن ہے۔ چکن کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت یا تیز آنچ پر پکانے سے اس میں موجود بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں۔ دھونا اگرچہ ایک پرانا رواج ہے، لیکن فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے مطابق اس پر انحصار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






