وفاقی وزیر توانائی نے پاور شٹ ڈائون کی حیران کن وجہ بتا دی

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

اسلام آباد (پی این آئی) وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ بیرونی انٹر نیٹ کے ذریعے بیرونی مداخلت ہوئی ہے ، کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں میں کچھ واقعات سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے شبہ ہے کہ انٹر نیٹ کے ذریعے مداخلت کی گئی ہے، جس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بریک ڈاؤن کے حوالے سے پریس بریفنگ کے دوران وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے تمام گرڈ اسٹیشنز بحال کر دیئے گئے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں سمیت متعدد علاقوں میں کل ہی بجلی بحال کر دی گئی تھی۔

وارسک ڈیم چل رہا تھا جس کی وجہ سے پشاور اور اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں بجلی موجود تھی، اسی طرح سندھ میں بھی کچھ پاور سٹیشنز چل رہے تھے جس کی وجہ سے سیلاب زدگان والے علاقے میں بجلی سارا دن بحال تھی اور انہی پاور سٹیشنز کو بلوچستان کیلئے استعمال کیا گیا ، ہمیں مشکلات تربیلا اور منگلا ڈیم کے درمیان پیش آئیں، جن کی وجوہات تو تاحال سامنے نہیں آئیں۔وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ آئیسکو ، سکھر میں جزوی طور پر بجلی بحال تھی ، 12بجے ملتان میں ، 4بجے حیدر آباد، اور پھر اسلام آباد میں بجلی بحال کر دی گئی تھی اور آج صبح 4بجے پورے ملک میں بجلی بحال ہو گئی تھی ، ہمارے جوہری پلانٹ کو مزید 48گھنٹے در کار ہیں ، جو کہ کراچی کو بجلی فراہم کر رہے ہیں، اسی طرح کوئلے کے پلانٹ کو بھی 48گھنٹے لگیں گے ، اس لیے بجلی شارٹ فال رہے گا، لیکن انڈسٹری کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بجلی کے کارخانے چلانے کیلئے ہمارے پاس وافر ایندھن موجود ہے اس لیے یہ افواہ غلط تھی کہ ایندھن نہیں ہے اس لیے بریک ڈاؤن آیا ۔

close