غلط سرجری سے 16مریض بینائی سے محروم، وزیراعلی پنجاب کا نوٹس، رپورٹ طلب

لاہور(آئی این پی)وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ملتان میں 16افراد کی آنکھوں کی غلط سرجری کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کو واقعے کی تحقیقات اورذمہ داران کیخلاف کارروائی کاحکم دے دیا،تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ملتان کے نجی اسپتال میں آنکھوں کی غلط سرجری کے باعث 16افراد کی بینائی سے محروم ہونے کے واقعے کا نوٹس لے لیا،عثمان بزدار نے سیکرٹری صحت اور کمشنر ملتان ڈویژن سے

رپورٹ طلب کرتے ہوئے محکمہ صحت کوواقعے کی تحقیقات اورذمہ داران کیخلاف کارروائی کاحکم دے دیا،عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے اور ذمے داروں کاتعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،وزیر اعلی پنجاب نے کہا حقائق منظرعام پرلائے جائیں اور بینائی سے محروم افرادکی دادرسی کے ساتھ ساتھ ان کے علاج پرخصوصی توجہ دی جائے۔ پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی، سینئر صحافی نے دلائل دیتےہوئے بڑا دعویٰ کر دیا لاہور(پی این آئی) پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی نہ ہونے کا امکان ہے، پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت اور سینیٹ میں زیادہ ارکان ہیں، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر اسٹیبلشمنٹ سے خواہ مخواہ کی لڑائی نہیں چاہتی۔ سینئر تجزیہ کارطلعت حسین نے اپنے تجزیے میں کہا کہ پیپلزپارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بڑے پرانے ہیں، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بڑی طاقتور اور مقبول تھیں، لیکن پھر بھی وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرکے واپس آئیں، لیکن تعلقات سے مراد یہ نہیں سیاسی طور پرمکمل بچت ہوجائے گی۔آصف زرداری کے بڑے پرانے روابط ہیں، اس میں لڑائی ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔پیپلزپارٹی طاقت میں ہے، سندھ میں حکومت ہے سینیٹ میں زیادہ سیٹیں ہیں۔پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ اسٹیبلشمنٹ سے خواہ مخواہ لڑائی جاری رکھے۔ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ کیا لیکن یہ احمقانہ فیصلہ کیا ۔اتفاق کرتا ہوں کہ ثاقب نثار جیسے لوگ جج بن جاتے ہیں، ان کو سیٹ کا تحفظ حاصل ہوجاتا ہے اور وہ اس سیٹ کو اپنی کھوکھلی عزت کیلئے استعمال کرتے ہیں، صرف ثاقب نثار نہیں ایسے کئی لوگ ہیں۔لیکن ایک دن عہدے کا تحفظ ختم ہوجاتا ہے پھر احساس ہوتا ہے کہ اس بندے نے کیا کام کیے؟ حقائق قوم کو بتانے کی ضرورت نہیں، ان کو خود پتا ہے، اگر قوم کو حقائق نظر نہیں آرہے معاشی اور معاشرتی حقائق سمجھ نہیں آرہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے،

اور پھر کوئی بڑا حادثہ ہی سمجھائے گا۔بہت سارے لوگ ملک سے باہر ہیں، ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں، وہ پاکستانی سیاست کو باہر بیٹھ کرحقائق دیکھنا شروع کردیتے ہیں، کہتے ہیں کہ اتنے بھی حالات خراب نہیں ہیں، لیکن جب وہ پاکستان میں رہیں گے تو پھر پتا چلے گا لوگ کس طرح رہ رہے ہیں، اگر مہنگائی، بجلی گیس کے بل نہیں سمجھا رہے تو پھر پتا نہیں کیسے سمجھیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں