آئی ایم ایف کی بیساکھی ، سنیئر صحافی سہیل اقبال بھٹی کا کالم، بشکریہ روزنامہ 92

حکومت کے تمام تر اقدامات اور دعووں کے باوجود ڈالر کی اُڑان بے قابو دکھائی دے رہی ہے۔ دوست ممالک کا تعاون‘زرمبادلہ کے ذخائر اور ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافے کے بلند وبانگ دعوے بھی مارکیٹ کے اضطراب کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے۔حکومت نے ادارہ شماریات پر ہفتہ وار مہنگائی کے اعداودشمار جاری کرنے پر پابندی بھی عائد کی مگر مہنگائی کے تباہ کن اثرات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے کے باوجود معاہدہ نہ ہونا ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ معاشی چیلنجز کے پیش نظر وفاقی حکومت نے کئی سخت اقدامات کرنا شروع کردئیے ہیں مگر ایسے شعبہ جات جہاں سے 60سے 90ارب روپے روپے فوری ریونیو جمع ہوسکتا ہے‘وزارت خزانہ اس جانب نظردوڑانے پر تیارتک نہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کا کلہاڑا چلانے میں وزارت خزانہ ایک لمحہ دیر نہیں کرتی مگر جن شعبوں میں تگڑے لوگوں کا مفاد پنہاں ہے اس سے نظریں چُرائی جارہی ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان حالیہ اعلی سطحی اجلاس کے دوران سگریٹ اورمیٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور انسانی صحت پردونوں چیزوں کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیلتھ لیوی کے نفاذ کیلئے ہدایات جاری کی جائیں۔ دوران اجلاس مشیر خزانہ نے دونوں شعبوں کے دفاع میں ڈٹ گئے۔ شوکت ترین صاحب نے موقف اپنایا کہ نئے ٹیکسز کے نفاذ کیلئے یہ مناسب وقت نہیں اور اگر نئے ٹیکسز کا نفاذ کیا گیا تو یہ منی بجٹ کے مترادف ہوگا اور حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے وقت سگریٹ اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کو مدنظر رکھا جائیگا۔شوکت ترین صاحب نے سائنس کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ اب تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ میٹھے مشروبات ذیباطیس بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

وفاقی کابینہ نے دونوں وزارتوں کا موقف سننے کے بعد سگریٹ اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کیلئے مشیر خزانہ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی کمیٹی قائم کردی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اورتخفیفِ غربت ثانیہ نشتر کمیٹی میں شامل ہوں گی۔ کمیٹی آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل سگریٹ اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے متعلق اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے قبل پانچ پیشگی اقدامات‘ مکمل کرنے ہوں گے۔ آئی ایم ایف عملے کے ساتھ تمام معاملات حل ہوگئے ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے ہمیں پیشگی مکمل کرنے والے اقدامات کی ایک فہرست مکمل کرنے کو دی ہے تا کہ وہ پاکستان کے حوالے سے بورڈ اجلاس بلا سکیں۔

دونوں فریقین نے بات چیت مکمل کرنے کے بعد دونوں بلوں کو وزارت قانون و انصاف کے ذریعے حتمی شکل دینے کے لیے ٹھیک کیا جا رہا ہے۔جب یہ نشاندہی کی گئی کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس طے شدہ شیڈول کے مطابق 17 دسمبر کو ہو کر فروری تک ملتوی ہوسکتا ہے تو انہوں نے وضاحت کی کہ آئی ایم ایف بورڈ کو کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے بشرطیکہ پیشگی کارروائیاں مکمل ہوں۔مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ مجھ سے تاریخ نہیں پوچھیں لیکن آئی ایم ایف ڈیل ہوچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے گیس کی قیمت 6.5 ڈالر سے بڑھا کر 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی کردی ہے جس سے ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے عالمی سطح پر دیگر کمپنیوں کی مصنوعات کا قیمتوں کے حوالے سے مقابلہ کرنا کافی دشوار ہوجائے گا۔

وزارت خزانہ کے حکام کا دعوی ہے کہ شوکت ترین آئی ایم ایف کے عملے کو سٹیٹ بینک ترمیمی بل میں نمایاں تبدیلی کے لیے قائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جس کا سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے رواں سال مارچ میں 50 کروڑ ڈالر کی قسط سے قبل آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا۔ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے متعلق کارروائی کو فی یونٹ 1.39 روپے کے حالیہ اضافے کے ساتھ پہلے ہی پورا کیا جا چکا ہے جبکہ ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے بل تیار کر لیے گئے ہیں اور ٹیرف میں آئندہ اضافہ فروری سے مارچ 2022 تک ہو گا۔عوام تیار رہیں۔ حکومت کو گردشی قرضے کا سنگین چیلیج درپیش ہے۔

عوام سے وعدہ کیا گیا تھاکہ کہ گردشی قرضہ ختم کریں مگر تین سالوں میں گردشی قرضے نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ کر 2ہزار500ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ شوکت ترین صاحب نے گردشی قرضوں میں جکڑے ہوئے پبلک سیکٹر اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھاتوں پر وصولیوں کی بنیاد پر منافع کا اعلان کریں،حکومت اپنے منافع کا حصہ گردشی قرضے کی ادائیگیوں کیلئے استعمال کرے گی۔ اس اقدام سے گردشی قرضوں میں 2 کھرب روپے تک کی کمی آئے گی جس کا ظاہری امکان تو بہت کم دکھائی دے رہا ہے تاہم اداروں کی بیلنس شیٹ کلیئر ہو جائے گی جس کی بنیاد پر حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں گلوبل ڈپازٹری رسیدوں میں اضافہ کرے گی۔ آئی ایم ایف پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں بہتر کرنے کے علاوہ ایک کھرب 70 ارب روپے کے ٹیکس استثنٰی کی وصولی چاہتا ہے جس کے لیے حکومت نے رواں سال 6 کھرب 10 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن ابتدائی 4 ماہ میں محض 50 ارب روپے جمع کر پائی۔اربوں روپے مالیت کے وفاقی اور صوبائی حکومت کے اداروں کے متعدد اکاؤنٹس کی خزانے کے ایک ہی اکاؤنٹ میں منتقلی بھی آئی ایم ایف پروگرام کی شرط تھی‘ یہ پیشگی کیا جانے والا اقدام نہیں اور اس پر آہستہ آہستہ عمل کیا جائے گا۔آئی ایم ایف کیساتھ کڑی شرائط کیساتھ ہونے والا معاہدہ پاکستان تحریک انصاف کیلئے بہت بڑا امتحان ثابت ہوگا۔

آئی ایم ایف کی بیساکھیاں معاشی بحالی کی بجائے گہری دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔ تین سالوں کے دوران گورننس اور معاشی بہتری میں ناکامی کا خمیازہ تو اب آئندہ انتخابات میں بھگتنا ہی پڑے گا۔۔۔۔