آزاد کشمیر حکومت منتخب کونسلروں کو مالی، انتظامی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات کرے، 40 سے زائد کونسلروں، سول سوسائٹی نمائندوں کا مطالبہ

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

اسلام آباد: (پی این آئی) 40 سے زائد کونسلروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے متفقہ طور پر حکومت آزاد جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منتخب کونسلروں کو مالی اور انتظامی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے تا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اتر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار سنٹر فار پیس، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ورکشاپ میں کیاگیا۔ جس کا مقصد حال ہی میں منتخب ہونے والے کونسلروں کو درپیش مسائل اور ضروریات کا جائزہ لینا تھا۔

شرکا نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تربیتی اور استعداد سازی کی ورکشاپس کا انعقاد کرے تاکہ منتخب کونسلرز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھا سکیں۔
سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو حکومت کا انتظار کرنے کے بجائے کمیونٹی کی بہتری کے لیے تخلیقی آئیڈیاز کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کی تیز رفتار ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کونسلرز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے لیے پانچ سالہ پلان کی صورت میں قابل عمل اہداف مقرر کریں۔
پبلک پالیسی کے ماہر ڈاکٹر وقاص علی نے منتخب کونسلروں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ شہری خدمات کی فراہمی کو یقینی بناسکیں۔ باغ سے منتخب کونسلر افراز گردیزی نے کہا کہ عوام نے منتخب نمائندوں سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور ہمیں شہریوں کی توقعات پر پورا اتر کر اپنی لیڈرشپ ثابت کرنا ہے۔ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کونسلر عامر خورشید نے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں استعداد سازی کی ورکشاپ منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نو منتخب کونسلرز کو کونسلوں کے قوانین اور طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔
میرپور شہر سے منتخب ہونے والے کونسلر محمد رمضان چغتائی نے کہا کہ مقامی سطح پر لوگوں کو ان کے حقوق، لوکل گورنمنٹ کے بجٹ اور مقامی ترقیاتی اقدامات کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بھرپور طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔
ڈاکٹر عشرت سجاد نے تجویز پیش کی کہ فیصلہ سازی کی سطح پر خواتین کو شامل کیا جائے۔ خواتین کی فعال شرکت کے بغیر آزاد جموں و کشمیر اپنی حقیقی صلاحیتوں کو مظاہرہ نہیں کر سکتا۔
راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کونسلر عامر رفیق نے 32 سال بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر آزاد جموں و کشمیر حکومت کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ تمام فنڈز اور اختیارات بھی جلد ہی ایل جیز کونسلرز کو سونپ دیے جائیں گے۔
روزنامہ دھرتی کے چیف ایڈیٹر عابد صدیق نے ایل جی کونسلرز کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ اپنے رابطوں کو بہتر بنائیں تاکہ منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا سکے اور اپنے ووٹروں کے مفاد میں تصادم کے راستے سے گریز کریں۔
راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کونسلر راشد افراز نے تمام مقامی حکومتی اداروں کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا خیال تھا کہ تمام قصبوں اور شہروں میں بھاری ریونیو حاصل ہو رہا ہے لیکن زیادہ تر کرپٹ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتاہے اور عوامی منصوبوں پر خرچ نہیں ہوتا۔
دھیرکوٹ کے ضلعی کونسلر جاوید عارف عباسی نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی مدد سے انہوں نے اپنے حلقے میں کئی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ البتہ حکومت کو جلدازجلد کونسلروں کو رولز آف بزنس سے آگاہ کرنا چاہیے۔
محترمہ فاطمہ انور، محترمہ عفیفہ اویس اور محترمہ مہوش بخت نے اس بات کو سراہا کہ ایل جی کے انتخابات پرامن طریقے سے ہوئے اور خواتین کی معقول تعداد نے بھی انتخابات میں حصہ لیا اور درجنوں خواتین جلد ہی ریزرو سیٹوں پر منتخب ہوں گی جس سے سیاسی میدان میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ارتضیٰ محمد نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی روکتے میں مقامی حکومتوں کو جنگلات کے فیصلے کرنے میں شراکت دار بنانے کی تجویز دی۔مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے کونسلر سیّد امتیاز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ منتخب کونسلرز کو مقامی امور چلانے، ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی اجازت دے۔ نوکر شاہی کو راستے کی رکاوٹ بننے سے روکے۔
پاکستان کی طرح آزاد کشمیر کو بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس کا شمار انتہائی حساس ممالک میں ہوتا ہے۔ بلال امجد نے کہا کہ بااختیار مقامی حکومتوں کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بھی نمٹاجاسکتاہے۔
سی پی ڈی آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارشاد محمود نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ مقامی انتظامیہ سے منتخب نمائندوں تک اختیارات کی منتقلی ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے جس کے لیے عوامی مطالبے کے ساتھ تحمل اور مسلسل لابنگ کی ضرورت ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تقریباً 3000 منتخب کونسلرز کی سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کو کوئی بھی حکومت نظرانداز نہیں کرسکتی ہے۔انہوں نے کونسلروں کو مشورہ دیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے اختیارات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔
تقریب سے مطیع الرحمان، صفدر گردیزی، ثاقب خان، اشفاق گردیزی، طارق چغتائی، خلیق قربان، وقاص قیوم، وسیم مجید، عمران کیانی، اور عابد حسین نے بھی خطاب کیا۔۔۔۔

close