*مشترکہ جائیداد کے تنازعات ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں، لاہور ہائیکورٹ*
لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی ٹریبونل ایکٹ 2025 کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مشترکہ جائیدادوں کے تنازعات پراپرٹی ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، غیر تقسیم شدہ جائیداد میں ہر حصے دار ہر انچ کا مالک ہوتا ہے اور جب تک باقاعدہ تقسیم نہ ہو کسی حصے دار کا مخصوص قبضہ متعین نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ٹریبونل سے رجوع کے لیے قانونی اور واضح ملکیت ہونا لازمی ہے، غیر واضح یا متنازع ملکیت کی صورت میں ٹریبونل کو سماعت کا اختیار نہیں، پڑوسی زمین پر ناجائز تجاوزات کا فیصلہ بھی سول کورٹ کرے گی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جہاں مقدمات پہلے سے سول عدالتوں میں زیر التوا ہوں وہاں اسی معاملے پر ٹریبونل میں متوازی کارروائی نہیں ہو سکتی، تاہم سول کورٹ مطمئن ہو تو سیکشن 16(11) کے تحت کیس ٹریبونل کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سول کورٹ کا ضابطہ دیوانی کے سیکشن 9 کے تحت بنیادی دائرہ اختیار برقرار ہے اور ٹریبونل ایکٹ سے سول عدالتوں کا عمومی اختیار ختم نہیں ہوتا۔ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے جاری کیا۔






