اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 4 اکتوبر احتجاج کی مبینہ مالی معاونت کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اعظم خان سواتی کو بری کر دیا۔
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کا کوئی بھی گواہ اعظم سواتی کے خلاف مؤثر گواہی پیش نہیں کر سکا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مالی معاونت کا الزام عائد کیا گیا، تاہم اس کے ثبوت میں کوئی بینک اکاؤنٹ یا مالی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ مقدمہ درج کیے جانے کے وقت اعظم سواتی جیل میں تھے، جبکہ ان کی بریت کا دیگر ملزمان کے مقدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ باقی افراد کے خلاف الزامات اور ٹرائل الگ نوعیت کے ہیں۔
اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ تھانہ نون میں درج کیا گیا تھا، جس میں 4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق الزامات شامل تھے۔






