پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام کی مرحلہ وار منتقلی کا روڈ میپ جاری

وفاقی حکومت نے پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام کی بتدریج منتقلی کے لیے ایک جامع روڈ میپ جاری کر دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی حکومت سود سے پاک مالیاتی نظام کے لیے متحرک ہے اور اس نے سال 2027 کے اختتام تک سود سے پاک مالی نظام کی تیاری کا فیصلہ کرتے ہوئے بڑے اقدامات کیے ہیں اور اس حوالے سے روڈ میپ جاری کیا ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سال 2027 کے بعد کے فنانشل سسٹم کی حکمت عملی پر کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی مل کر سود سے پاک مالی نظام نافذ کریں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اسلامی مالیاتی نظام کی طرف مرحلہ وار منتقلی کی جائے گی، اس کے لیے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ترامیم کی جائیں گی، اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کے لیے قانونی اصلاحات کی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق بینکوں کے آئی ٹی نظام کو بھی اسلامی بینکاری کے مطابق بنایا جائے گا۔ اور اسلامی بینکاری کے لیے عملے کی تربیت کا پروگرام بھی شامل ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2027 کے بعد نئی سرکاری فنانسنگ شریعت کے مطابق ہو گی۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی بھی شریعت کے مطابق ہوگی، جب کہ روایتی قرضوں کو مرحلہ وار اسلامی فنانسنگ میں تبدیل کیا جائے گا۔

اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے سکوک کا اجرا باقاعدگی سے ہوگا اور مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کا روڈ میپ مرحلہ وار منتقلی مالی استحکام کو برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے، ملک کے بینکنگ اور مالیاتی شعبوں کو بڑے اقتصادی رکاوٹوں کے بغیر نئے نظام کے مطابق ڈھالنے کے قابل بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی نے 26 ویں آئینی ترمیم میں سود سے پاک مالیاتی نظام کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد حکومت نے اس آئینی ترمیم میں جنوری 2028 سے سود سے پاک معیشت کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت نے بھی حکومت کو 31 دسمبر 2027 تک سود سے مکمل پاک مالیاتی نظام پاکستان میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close