وفاق میں 23 مختلف وزارتوں اورڈویژنز کے محکموں کی آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 19 کھرب کے بیرونی قرضے اور ارکان اسمبلی کی 75 ارب کی سکیمیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بڑے مالی گھپلوں اور پارلیمانی منظوری کے بغیر اخراجات بے نقاب ہوگئے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کے دعوے کرپشن اور غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کے برعکس مختلف وفاقی وزارتوں میں ہی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 23 وزارتوں اور ڈویژنز کے متعدد محکموں کی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ہی 187 ارب روپے کے زائد خرچ کردیئے گئے۔ ڈیڈ اکاونٹس سے 24 ارب روپے حکومتی اکاونٹس میں منتقل بھی نہ کیے گئے۔ 87 ارب کے فنڈز عدم استعمال پرلیپس ہوگئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی شفافیت کیلئے سخت اصلاحات کی سفارش کردی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں 19 کھرب کے بیرونی قرضے، ارکان اسمبلی کی ترقیاتی سکیموں کیلئے 75 ارب روپے کے استعمال میں قواعد کی خلاف ورزی، بڑے مالی گھپلوں اور پارلیمانی منظوری کے بغیر اخراجات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
مختلف وزارتوں نے 2024-25 میں ہی مختص فنڈز سے 187 ارب زائد خرچ کرڈالے۔ 78 کمزور داخلی کنٹرول کیسز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے 82 کیسز میں ریکوری کی ہدایت بھی کردی۔
رپورٹ کے مطابق 87 ارب روپے کے فنڈز استعمال نہ ہونے کے باعث لیپس ہوگئے۔ فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈز سے 7.49 ارب روپے پبلک اکاونٹ میں خلاف ضابطہ منتقل کیے گئے جبکہ ڈیڈ اکاونٹس سے 24 ارب روپے حکومتی اکاونٹس میں ٹرانسفر نہیں کیے گئے ۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق سرکاری فنڈز میں خردبرد کے 2 کیسز سامنے آئے۔
رپورٹ میں غیر استعمال شدہ سرکاری رقوم خزانے میں جمع کروانے سرکاری اداروں میں مالی نظم و نسق بہتر اور احتساب کا نظام مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





