پاکستان کی ایران سے سستے تیل اور گیس کی خریداری؟ بڑی خبر آ گئی

امن معاہدے کے بعد امریکا ایران پر سے پابندیاں ہٹا رہا ہے اس سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

پاکستان کی کامیاب سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں نصف صدی سے ایک دوسرے کے دشمن ممالک امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہوا ہے اور اب امریکا ایران پر عائد پابندیاں ختم کر رہا ہے۔ اس کا فائدہ کس حد تک پاکستان کو ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی ریڈار کے میزبان معروف تجزیہ کار کامران خان نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے لیے سستے تیل، گیس کی فراہمی، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے مواقع پر روشنی ڈالی۔

کامران خان نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف جنگ کے دوران ایران کی سفارتی حمایت کی بلکہ ایران اور امریکا میں ڈائیلاگ اور امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم ترین ثالث کا کردار ادا کیا۔ یہ تاریخ کی بڑی حقیقت ہے کہ پچاس سالہ ایران امریکی دشمنی پاکستان نے ختم کرائی، آج کا دورہ ایران کی پاکستان پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل معاشی تعاون کے لیے ایک بہت بڑی ابتدا سمجھا جا رہا ہے۔ ایران پر امریکی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان کو تجارت توانائی، علاقائی روابط نمایاں فوائد حاصل ہوں گے۔

ایران پر امریکی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ بارڈر ٹریڈ سے لے کر گوادر کی اسٹرٹیجک اہمیت، ایران پاکستان گیس پائپ لائن، ایرانی آئل کی قانونی امپورٹ سمیت کئی منصوبے ہیں جو برسوں سے رکے ہوئے تھے، اب وہ دوبارہ پوری قوت سے متحرک ہوں گے۔

یہ ڈیولپمنٹ صرف سفارتی فتح نہیں بلکہ تجارت، انرجی ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور پاکستان نے حال ہی میں سرحدی علاقے میں اسپیشل اکنامک زون کے قیام کے منصوبے کو تیز کرنے اور دو طرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دونوں ملکوں کا خیال ہے کہ بارڈر ٹریڈ انڈسٹریل کارپوریشن اور ریجنل کنکٹیویٹی میں اضافہ اس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران کو گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم سمیت اپنی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کی بلکہ جب کہ تافتان بارڈر تک چھ زمینی راستے بھی کھول دیے جس کے نتیجے میں ایران کو متبادل ٹریڈ اور سپلائی روٹس میسر آئے۔

ایرانی حکام کے مطابق ایران کا 45 ارب ڈالر کا غیر رسمی کاروبار دبئی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر ایران پر امریکی پابندیاں مکمل ختم ہو جاتی ہیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم ٹریڈ اور لاجسٹک گیٹ وے بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایرانی تجارت کا بڑا حصہ قانونی اور دستاویزی چینل کے ذریعہ پاکستان منتقل ہونے کا امکان ہے۔

اس پورے منظر نامے میں ایران پاکستان گیس پائب لائن پراجیکٹ سب سے اہم ہے جو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، 2009 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران نے پاکستان کو 25 سال تک یومیہ ایک ارب مکعب فٹ گیس فراہم کرنی تھی۔ ایران نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا تھا لیکن امریکی پابندیوں اور مالی مشکلات کے باعث پاکستان اپنا حصہ تعمیر نہیں کر سکا تھا۔

پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان پر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کو سستی گیس حاصل کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے جو ملک کے سنگین توانائی بحران میں اہم کردار ادا کر سکاتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی دہائیوں سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل بلوچستان کے زمینی اور سمندری راستوں سے اسمگل ہو کر پاکستان آتا رہا ہے۔ اندازے کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کروڑ لیٹر ایرانی فیول پاکستان اسمگل ہو کر آتا ہے۔ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں یہی تجارت قانونی شکل اختیار کر کے پاکستان کو 300 ارب روپے سے زائد سالانہ ریونیو فراہم ہو کر سکتی ہے۔

تاہم دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور علاقائی روابط کو کس حد تک ٹریڈ، سرمایہ کاری اور بزنس ایکٹویٹی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اگر یہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت کے لیے یہ ایک گیم چینجنگ ڈیولپمنٹ ہونے والی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر آنے والے دنوں میں بزنس سرکل اور سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز رہیں گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close