کس کس کے پاس بلٹ پروف گاڑی ہے اور کیوں ہے، وزیر دفاع

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں بلٹ پروف گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سوال اٹھاتے ہوئے وزارت داخلہ کو ایسی گاڑیوں کی تفصیلی فہرست مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک بھر میں بلٹ پروف گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ کن افراد کے پاس ایسی گاڑیاں موجود ہیں اور انہیں ان کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کے مالکان ہر چند ماہ بعد مہنگے ٹائروں کی تبدیلی کے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے گزشتہ روز پارلیمنٹ لاجز اور سڑکوں پر ویگو ڈالوں کے استعمال پر بھی تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ویگو ڈالوں سے بچانے کی ضرورت ہے اور ان کے استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزرا کی گاڑیوں پر جھنڈوں کے استعمال کے حوالے سے بھی ضابطہ کار ہونا چاہیے اور شام کے بعد گاڑیوں پر سرکاری جھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق جب وزیر خود گاڑی میں موجود ہو تو جھنڈے کی ضرورت نہیں رہتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں غیر ضروری سکیورٹی پروٹوکول اور ویگو ڈالوں کی آمدورفت محدود ہونی چاہیے، کیونکہ وہاں منتخب عوامی نمائندے رہائش پذیر ہوتے ہیں اور ہر فرد کو یکساں نوعیت کے خطرات لاحق نہیں ہوتے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے پولیس آگے ہوتی ہے اور اقتدار ختم ہونے کے بعد پیچھے، اس طرز عمل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری سکیورٹی اور پروٹوکول کے کلچر کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close