ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے بارے میں نئی پیشگوئی

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی بہت جلد مجموعی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

ایکس پر ایک صارف کی پوسٹس پر ریپلائی کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ آئندہ 4 سے 5 برسوں کے دوران اے آئی ٹیکنالوجی انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت کے نتیجے میں یہ نئی ٹیکنالوجی بہت جلد انسانی ذہنی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ ے گی۔

انہوں نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ اے آئی ٹیکنالوجی انسانی تاریخ کو بدل دینے والی چند اہم ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔

ایلون مسک نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جدید ٹیکنالوجیز سے معاشرے کو بدلنے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اے آئی پر مبنی مشینوں سے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، اشیا کی تیاری آسان ہو جائے گی جبکہ خدمات سستی اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوں گی۔

ایلون مسک کے مطابق انسان نما روبوٹس اور ذہین مشینیں بہت جلد ایسے کام کرسکیں گے جو ابھی انسان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف صنعتوں میں اے آئی پر انحصار بڑھ جائے گا، لاگت گھٹ جائے گی جبکہ افادیت بڑھ جائے گی۔

اس سے قبل جنوری 2026 میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا تھا کہ ‘میں نہیں جانتا کہ 10 برسوں میں کیا ہوگا، مگر جس رفتار سے اے آئی ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، میرے خیال میں رواں برس کے آخر تک اے آئی کسی بھی انسان سے زیادہ اسمارٹ ہو جائے گی’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ممکنہ طور پر 2030 یا 2031 یعنی اب سے 5 سال کے اندر اے آئی تمام انسانوں سے زیادہ اسمارٹ ہو جائے گی’۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی اور روبوٹیکس سے معیشت میں بے نظیر توسیع ہوگی اور انسانوں جیسے روبوٹ بہت جلد روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو جائیں گے۔

ایلون مسک کے مطابق اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم اگلے برس کے آخر میں عام افراد کو انسان نما روبوٹس فروخت کریں گے اور متعدد روبوٹس اے آئی کی مدد سے انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا کام کریں گے۔

درحقیقت انہوں نے پیشگوئی کی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسانوں سے زیادہ روبوٹس دنیا میں موجود ہوں گے۔

ان کے بقول روبوٹس سے انسانی ضروریات کی طلب میں کمی آئے گی اور روبوٹس کو اپنانا دنیا میں موجود ہر فرد کے لیے ناگزیر ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close